دلاور علی آزر

اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)

28 December 2025

14سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں

آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں پیکر دکھائی دیتے ہیں مجھ کو چٹان میں سب اپنے اپنے طاق میں تھرا کے رہ گئے کچھ تو کہا ہوا نے چراغوں کے کان میں میں اپنی جستجو میں یہاں تک پہنچ گیا اب آئنہ ہی رہ گیا ہے درمیان میں منظر بھٹک رہے تھے در و بام کے قریب میں سو رہا تھا خواب کے پچھلے مکان میں لذت ملی ہے مجھ کو اذیت میں اس لیے احساس کھینچنا تھا بدن کی کمان میں نکلی نہیں ہے دل سے مرے بد دعا کبھی رکھے خدا عدو کو بھی اپنی امان میں آزرؔ اسی کو لوگ نہ کہتے ہوں آفتاب اک داغ سا چمکتا ہے جو آسمان میں

— دلاور علی آزر

بخشا ہے اس نگاہ نے ایسا یقیں مجھے

بخشا ہے اس نگاہ نے ایسا یقیں مجھے حیرت سے دیکھتے ہیں سبھی نکتہ چیں مجھے جو کچھ ملا حضور کے صدقے سے ہے ملا اور جو نہیں ہے اس کی ضرورت نہیں مجھے میرے لبوں کی پیاس ہے ان جالیوں کا لمس مل جائے تو قبول دم ِ آخریں مجھے یہ سوچ کر ہے کپکپی طاری وجود پر دیکھے گا کس نگاہ سے ماہِ مبیں مجھے سستا رہا ہوں گنبدِ خضرا کے سائے میں کہہ دو نہیں ہے حاجتِ خلدِ بریں مجھے آزر نہ کہہ سکوں گا قصیدہ حضور کا کہنے کا لاکھ شوق ہے اپنے تئیں مجھے

— دلاور علی آزر